آنکھ سے دور نہ ہو دل سے اتر جائے گا
وقت کا کیا ہے گزرتا ہے گزر جائے گا
آپ اک زحمت نظر تو کریں
کون بے ہوش ہو نہیں سکتا
آنکھوں سے تری زلف کا سایہ نہیں جاتا
آرام جو دیکھا ہے بھلایا نہیں جاتا
اللہ رے نادان جوانی کی امنگیں!
جیسے کوئی بازار سجایا نہیں جاتا
آنکھوں سے پلاتے رہو ساغر میں نہ ڈالو
اب ہم سے کوئی جام اٹھایا نہیں جاتا
بولے کوئی ہنس کر تو چھڑک دیتے ہیں جاں بھی
لیکن کوئی روٹھے تو منایا نہیں جاتا
جس تار کو چھیڑیں وہی فریاد بہ لب ہے
اب ہم سے عدمؔ ساز بجایا نہیں جاتا
ان کو عہد شباب میں دیکھا
چاندنی کو شراب میں دیکھا
آنکھ کا اعتبار کیا کرتے
جو بھی دیکھا وہ خواب میں دیکھا
داغ سا ماہتاب میں پایا
زخم سا آفتاب میں دیکھا
جام لا کر قریب آنکھوں کے
آپ نے کچھ شراب میں دیکھا
کس نے چھیڑا تھا ساز مستی کو؟
ایک شعلہ رباب میں دیکھا
لوگ کچھ مطمئن بھی تھے پھر بھی
جس کو دیکھا عذاب میں دیکھا
ہجر کی رات سو گئے تھے عدمؔ
صبح محشر کو خواب میں دیکھا
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آ سکتا نہیں
محو حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی